تعارف

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

تمام اہل ایمان کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ سب کے سب (دین کی تعلیم کے لیے) نکل کھڑے ہوں لیکن ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر ہر گروہ (اور طبقے) میں سے ایک گروہ نکلے تاکہ وہ دین میں گہری بصیرت حاصل کریں اور پھر واپس جا کر اپنی قوم میں انذار کریں تاکہ یہ لوگ محتاط رہیں۔ التوبہ 9:122

قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق مسلمانوں کے ہر گروہ اور طبقے میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہییں جو دین کے اندر گہری بصیرت حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے گروہ اور طبقے کے لوگوں میں اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے سے ملتے جلتے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا ہے اور انہی کی باتیں غور سے سنتا ہے۔ ایک جدید تعلیم یافتہ شخص، دین کو اسی عالم سے حاصل کرنا زیادہ پسند کرتا ہے جو خود بھی جدید تعلیم یافتہ ہو۔ اسی طرح ایک دیہاتی اسی عالم کی بات سننا زیادہ پسند کرتا ہے جو اسی کے ماحول میں رہتا ہو اور اسی کی زبان میں گفتگو کرتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر قوم، گروہ اور طبقے کے لوگوں کو حکم دیا ہےکہ ان میں سے بعض لوگ دین میں گہری بصیرت پیدا کریں اور پھر اپنی قوم ، گروہ یا طبقے میں دعوت و تبلیغ اور “انذار” کا کام کریں۔ “انذار” کا مطلب ہے خبردار کرنا۔ ایک عالم دین کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت، کہ اس کائنات کا ایک رب ہے اور ہم سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں، سے خبردار کرتا رہے۔ ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب دے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کے لیے تیاری میں ان کی مدد کرے۔ اسی مقصد کے لیے لوگ دین کا علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔

دین اسلام کے طالب علم جب دین کا مطالعہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ان کے سامنے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علوم دینیہ کا مطالعہ کس طریقے سے کیا جائے۔ علوم دینیہ سے ہماری مراد دین اسلام کی پوری تاریخ میں ترقی پانے والے وہ علوم ہیں جو کسی نہ کسی پہلو سے دین سے متعلق ہیں اور ان کا مطالعہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ان میں عربی زبان، علوم القرآن، علوم الحدیث، فقہ اسلامی، تاریخ، سیرت اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعہ کے مضامین شامل ہیں۔ ہمارے دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں میں ان میں سے بہت سے علوم فل ٹائم بنیادوں پر پڑھائے جاتے ہیں۔ علوم دینیہ کی اشاعت میں یہ ادارے نہایت ہی غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں تاہم اکثر حالات میں عام تعلیم یافتہ پروفیشنلز اور دنیاوی علوم کے طالب علموں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر خود کو دینی علوم کی تعلیم کے لیے وقف کر دیں۔ دوسری طرف ان کے اندر دینی علوم کو سیکھنے کی شدید خواہش بھی ہوتی ہے جو اگر پوری نہ ہو سکے، تو انسان ایک شدید فرسٹریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

1990 کے عشرے میں جس انفارمیشن انقلاب نے جنم لیا، اس کے نتیجے میں ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور فاصلے اس درجے میں سمٹ چکے ہیں کہ اب سے چند عشرے پہلے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ کمیونی کیشن کے اس انقلاب نے ہر طرح کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک زبردست امکان پیدا کیا ہے اور وہ ہے آن لائن تعلیم کا نظام۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں آن لائن تعلیم کا ماڈل تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ ویب سائٹ اسی پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی علوم کی تعلیم کو آن لائن کیا جائے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات میں موجود ایسے طالب علموں کی خدمت کی جا سکے جو دین کا علم پوری بصیرت اور گہرائی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے کسی مدرسے یا یونیورسٹی میں فل ٹائم داخلہ لینا مشکل ہے۔



علوم القرآن

بحیثیت مسلمان ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے۔ بلا مبالغہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اس کتاب کو حفظ کرتے ہیں۔ قرآن کو کچھ حصہ تو ہر مسلمان کو یاد ہوتا ہی ہے۔ بہت سے مسلمان اس کتاب کی روزانہ تلاوت کرتے ہیں، خاص کر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس سے مسلمانوں کا تعلق مزید گہرا ہو جایا کرتا ہے۔
غیر عرب مسلمانوں کے ہاں یہ عام رواج ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے زیادہ ان کے ہاں بلا سوچے سمجھے تلاوت پر زور دیا جاتا ہے۔ ہم محض ثواب کے حصول کے لئے قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کی دی ہوئی عظیم آسمانی ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سیدھے راستے سے بارہا بھٹک جاتے ہیں۔

لوگ قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر انہیں اس کی ہدایت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی عملی زندگی میں شیطان کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ یہ رجحان اب تبدیل ہو رہا ہے اور مسلمان بالخصوص نوجوان نسل قرآن مجید کے مطالعے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلموں میں بھی اس کتاب کے مطالعے کا رجحان پیدا ہو چکا ہے جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگی تبدیل کی۔

قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے، اس وجہ سے اس کتاب کے براہ راست مطالعے کے لئے نزول قرآن کے زمانے کی عربی زبان سیکھنا ضروری ہے۔ زبان سیکھنا ایک طویل عمل ہے۔ اس وجہ سے مناسب یہی ہے کہ عربی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف دینی علوم کے مبادیات اور متوسط درجے کے تصورات کا مطالعہ اردو یا انگریزی زبان میں کر لیا جائے۔ اس طرح سے عربی سیکھنے کے ساتھ ساتھ آپ دینی علوم کے اہم تصورات سے واقف ہو جائیں گے۔ زبان سیکھنے کے بعد آپ ان علوم کا اختصاصی درجے (Specialist Level) میں مطالعہ کر سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ “علوم القرآن پروگرام” کے تمام ماڈیولز کو اردو اور انگریزی میں مہیا کیا جا رہا ہے۔

غیر عربوں کے لئے قرآن مجید کے مطالعے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیں۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے لئے مفید ہے جو اس کے مضامین سے کچھ واقفیت حاصل کر نا چاہتے ہوں۔ مگر وہ لوگ جو اپنی زندگیوں کو دین کی دعوت کے لئے وقف کرنے کا عزم رکھتے ہوں، ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ علوم القرآن اور دیگر متعلقہ علوم جیسے حدیث، فقہ، تاریخ، اخلاقیات، فلسفہ اور علم الکلام کا تفصیلی مطالعہ کریں تاکہ وہ دین کو اس کے پورے استدلال کے ساتھ سمجھ کر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ یہ پروگرام ایسے ہی لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

دین کے ایسے طالب علم جو علم اور ذہانت کے اعتبار سے مختلف سطح پر ہوں، ان کی ضروریات مختلف ہوتی ہے۔ طالب علموں میں اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پروگرام کو سات ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے:

· ماڈیول QS01: یہ بالکل ابتدائی درجے کے طلباء کے لئے ہے۔ اس میں ہم قرآن مجید کے کچھ مخصوص اقتباسات لے کر ان پر عملی کام کریں گے۔ اس ماڈیول کے اختتام پر ہم قرآن مجید کے پیغام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا مطالعہ کرنے کے لئے درکار بنیادی معلومات بھی حاصل کر چکے ہوں گے۔ اسی ماڈیول میں ہم یہ کوشش کریں گے کہ اپنا تزکیہ نفس کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو قرآن کے بیان کردہ آئیڈیل کے مطابق ڈھال سکیں۔

· ماڈیول QS02-QS06: یہ درمیانے درجے کے طلباء کے لئے ہیں۔ اس میں ہم اردو زبان میں لکھی گئی قرآن کی مختلف تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کریں گے۔ ان ماڈیولز کے اختتام پر ہم علوم القرآن سے متعلق اہم ترین مباحث کا تفصیلی مطالعہ کر چکے ہوں گے۔ قرآن مجید پر عمل اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کا عمل ہم اس مطالعے کے دوران جاری رکھیں گے۔

· ماڈیولQS07: یہ ماڈیول ان طلباء کے لئے ہے جو علوم القرآن میں اختصاصی درجے (Specialist level) کی مہارت حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ قرآن مجید کی زبان، تفسیر، فقہی و کلامی مسائل ، تاریخ وغیرہ سے متعلق اعلی درجے کے مباحث کا مطالعہ انشاء اللہ اس درجے پر کیا جائے گا۔ غیر مسلم اہل علم بالخصوص مستشرقین کی جانب سے قرآن مجید پر جو سوالات و اشکالات اٹھائے گئے ہیں، ان کا مطالعہ کر کے ان کے جوابات کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔

اس پروگرام کے مقاصد یہ ہیں:
· قرآن مجید کے مضامین کا تفصیلی مطالعہ
· مختلف قرآنی تفاسیر کا تقابلی مطالعہ
· اپنی شخصیت اور کردار کو قرآن کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش
· قرآنی تعلیمات سے متعلق اہم علمی، عقلی اور عملی مسائل کا تعارف
· قرآنی اسالیب سے واقفیت
· قرآن مجید کی آیات کے پس منظر سے واقفیت
· اس بات کا فہم کہ مختلف دینی، فقہی اور مسلکی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفسرین (تفسیر لکھنے والے) قرآن کو کیسے سمجھتے ہیں

مطالعے کا طریق کار
علم التعلیم کے میدان میں ہونے والی مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عام ذہانت کا حامل انسان جو کچھ سنتا ہے ، وہ اس کا 30 سے 40 فیصد یاد رکھتا ہے؛ جو کچھ وہ دیکھتا ہے، اس کا 60 تا 70فیصد اس کے ذہن میں راسخ ہو جاتا ہے اور جو کچھ وہ عملاً کرتا ہے، اس کا 80 سے 90 فیصد وہ سیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس پروگرام میں ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس میں طالب علم کو قرآن مجید کے ایک منتخب نصاب پر عملی کام کرنا پڑے۔ اس عملی کام کے نتیجے میں قرآن مجید کی تعلیمات اس کی روح کی گہرائیوں میں اترتی چلی جائیں اور قرآن کا پیغام اس کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگے۔ اس عملی کام میں کچھ نفسیاتی، سماجی اور دعوتی نوعیت کی مشقیں ہیں جو قرآن مجید کے مطالعے کے دوران ہم کریں گے۔

اس پروگرام میں ہم قرآن مجید کی پانچ تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کریں گے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ مختلف پس منظر اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد قرآن کو کس طریقے سے سمجھتے ہیں۔ ان تفاسیر اور ان کے مصنفین کا تعارف تفسیر کے نام کے حروف تہجی کی ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے:

· احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
· تفہیم القرآن از سید ابو الاعلی مودودی (1903-1979)
· ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاہ الازہری (1918-1998)
· معارف القرآن از مفتی محمد شفیع عثمانی (1886-1976)
· تفسیر نمونہ از آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی (پیدائش 1924)

ان پانچوں تفاسیر کے ساتھ ساتھ ہماری ٹیکسٹ بکس یا ورک بکس اضافی ہوں گی۔ اس کورس میں ہم قرآن مجید کا ایک منظم انداز میں مطالعہ کریں گے اور ہماری ورک بکس آپ کو پانچوں تفاسیر کا منظم انداز میں مطالعہ کرنے میں مدد دے گی۔ ان میں قرآن مجید کے مختلف حصوں کو ان کے اندرونی نظم (Structure) کی بنیاد پر ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب کے شروع میں کچھ تعارف ہے اور اس کے ساتھ اسائنمنٹس دی گئی ہیں۔

اس وقت علوم القرآن پروگرام کے چھ ماڈیولز دستیاب ہیں۔ ساتویں اور آخری ماڈیول کی تیاری پر کام چل رہا ہے جس میں انشاء اللہ نہایت ہی اعلی سطح کے علمی مباحث کی تعلیم دی جائے گی۔ اس ماڈیول کے دو حصے ہوں گے۔ پہلے حصے میں وحی اور عقل سے متعلق فلسفیانہ مباحث، نظم قرآن، تدوین قرآن کی تاریخ، قرآن سے متعلق رویے اور فہم قرآن میں کی جانے والی عام غلطیوں کے بارے میں ہم مختلف نقطہ ہائے نظر کا مطالعہ کریں گے۔ دوسرا حصہ تفسیر سے متعلق مباحث پر مبنی ہو گا جس میں اصول تفسیر، تاریخ تفسیر، تفسیری طریق ہائے کار (Methodologies)، متن کا تجزیہ کرنے کے اصول اور اہم عربی، انگریزی اور اردو تفاسیر کا تعارف اور ان کی خصوصیات کا مطالعہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ماڈیول میں ہم علوم القرآن سے متعلق اہم مباحث جیسے مستشرقین کے اعتراضات، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، اعجاز القرآن اور اس نوعیت کے دیگر مسائل کا مطالعہ کریں گے۔

ماڈیول QS01 ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے کلک کیجیے۔

ماڈیول 07 ,06 ,QS02, 03, 04, 05 صرف رجسٹرڈ طلباء و طالبات کے لیے ہیں۔ انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے پہلے رجسٹریشن فارم پر کیجیے۔ فارم کے لیے رجسٹریشن پر کلک کیجیے۔

پہلا ماڈیول ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس بٹن پر کلک کیجیے۔
Quranic Studies - Module 1
بقیہ تمام ماڈیولز صرف رجسٹرڈ طلباء و طالبات کے لیے ہیں۔ انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے پہلے رجسٹریشن فارم پر کیجیے۔ فارم کے لیے رجسٹریشن پر کلک کیجیے۔
Islamic Studies Program Registration

قرآنی عربی پروگرام

علوم اسلامیہ تک گہرائی رسائی کے لیے عربی زبان کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی زبان عربی ہے۔ اس کے علاوہ احادیث نبوی کا پورا ذخیرہ عربی میں ہے۔ علوم دینیہ پر لکھی گئی بنیادی کتب بھی عربی ہی میں ہیں۔ اس وجہ سےدین کے ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان کا علم حاصل کرے اور کم از کم اتنی عربی ضرور سیکھ لے کہ قرآن و حدیث کو براہ راست سمجھنے کی راہ میں زبان رکاوٹ نہ رہے۔ دیگر علوم کے برعکس زبان کی تعلیم چونکہ طویل وقت کا تقاضا کرتی ہے، اس وجہ سے طالب علموں کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ دیگر علوم کے ساتھ ساتھ عربی کی تعلیم شروع کر لیں۔ جب تک وہ دیگر علوم سے فارغ ہوں گے، انہیں عربی زبان پر بھی اچھا خاصا عبور حاصل ہو چکا ہو گا۔

علوم اسلامیہ کے اس پراجیکٹ میں عربی زبان سکھانے کے لیے جو کورس ڈیزائن کیا گیا ہے، اس کا نام ہے “قرآنی عربی پروگرام۔” اس پروگرام کے اختتام پر انشاء اللہ ہم قرآن و حدیث اور علوم دینیہ سے متعلق عربی کتب کے مطالعے پر قادر ہو جائیں گے۔ اس پروگرام کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہم نہایت ہی آسانی کے ساتھ درجہ بدرجہ ادبیات اسلامیہ میں استعمال ہونے والی عربی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ اس پروگرام کو قرآنی عربی پروگرام کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس پروگرام کا محور و مرکز قرآن مجید ہے البتہ احادیث نبویہ، فقہ، تفسیر، تاریخ اور عربی ادب میں لکھی جانے والی عربی بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔

لوگ عموماً دو وجوہات کی بنیاد پر عربی سیکھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قرآن مجید، احادیث اور اسلامی لٹریچر کو سمجھا جا سکے اور دوسرے یہ کہ عربوں کے ساتھ جدید عربی میں گفتگو کی جا سکے۔ یہ پروگرام پہلے مقصد کی تکمیل کے لئے وضع کیا گیا ہے البتہ دوسرے مقصد کے لئے عربی سیکھنے والے بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔عربی دنیا کی منظم ترین زبان ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا سیکھنا بہت آسان ہے۔ اس کے قواعد و ضوابط بہت واضح ہیں۔ اگر ہم یہ قواعد و ضوابط سیکھ لیں تو چند ہی ہفتوں میں ہم اس زبان کا بڑا حصہ سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن و حدیث اور اسلامی لٹریچر میں استعمال ہونے والی عربی زبان سے واقفیت حاصل کریں۔ اس کے اسالیب کو پہچانیں اور اس کے محاوروں سے واقفیت حاصل کریں۔

اس پروگرام میں عربی سیکھنے کا طریقہ کار نہایت ہی سادہ ہے۔ روزانہ ایک باب کا مطالعہ کیجیے۔ ہر باب میں “اپنی صلاحیتوں کا امتحان لیجیے!” کے عنوان کے تحت مشقوں کو حل کیجیے۔ مشقوں کو حل کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے جوابات ہرگز نہ دیکھیے۔ بعد میں جوابات کو چیک کیجیے۔ آپ کو الفاظ کے معانی اور زبان کے اصول و قواعد رٹنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سب کچھ آپ کو خود بخود یاد ہوتا چلا جائے گا کیونکہ ہر ہر لفظ اور اصول بار بار آپ کے سامنے آئے گا۔ چند ہی ہفتوں میں آپ محسوس گے کہ آپ عربی زبان سمجھنے پر قدرت رکھتے ہیں

اس پروگرام کو اس انداز میں منظم کیا گیا ہے کہ آپ تدریجاً عربی سیکھتے چلے جائیں گے۔ پروگرام کو چھ ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے:

ماڈیول AR00: یہ ماڈیول ان لوگوں کے لیے ہے جو عربی پڑھنا نہیں جانتے ہیں۔ اس ماڈیول کا مقصد طالب علم کو عربی رسم الخط سکھانا ہے۔ اردو جاننے والے عام طور پر عربی پڑھ سکتے ہیں، اس وجہ سے وہ براہ راست ماڈیول AR01 سے آغاز کر سکتے ہیں مگر ماڈیول AR00 کا طائرانہ جائزہ مفید رہے گا۔ چونکہ عرب ممالک اور برصغیر میں لکھے جانے والے عربی رسم الخط میں تھوڑا سا فرق پایا جاتا ہے، اس وجہ سے مناسب رہے گا کہ آپ اس ماڈیول میں اس رسم الخط کے فرق سے واقف ہو جائیں۔

ماڈیول AR01: اس ماڈیول کا مقصد یہ ہے کہ ہم روز مرہ مذہبی معمولات میں استعمال ہونے والی عربی سیکھ لیں۔ ایک عام آدمی کی ضرورت یہی ہے۔ جو لوگ علوم دینیہ کا متوسط اور اعلی سطح پر مطالعہ کرنا چاہیں، وہ اس ماڈیول سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ماڈیول AR02: اس ماڈیو ل کا مقصد ہماری زبان کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اس میں ہم بنیادی عربی گرامر سیکھیں گے، علم النحو کا آغاز کریں گے اور اپنے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کریں گے۔ انشاء اللہ اس ماڈیول کے اختتام پر ہم ڈکشنری کی مدد سے30-40%عربی سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ہمارے پروگرام میں شریک بہت سے طلباءو طالبات کا کہنا یہ ہے کہ اس ماڈیول کے بعد وہ نمازوں اور خطبہ جمعہ کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

ماڈیول AR03: اس ماڈیول میں ہماری زبان کی صلاحیتیں مزید بہتر ہوں گی۔ ہم علم الصرف کے مباحث کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ذخیرہ الفاظ میں مزید اضافہ کریں گے۔ اس ماڈیول کے اختتام پر ہم انشاء اللہ ڈکشنری کی مدد سے 75-80% عربی سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ماڈیول AR04: اس ماڈیول میں انشاء اللہ ہم عربی گرامر کا مطالعہ مکمل کر لیں گے۔ علم الصرف اور علم النحو کے اعلی مباحث اسی ماڈیول میں زیر بحث آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم عربی عبارات کا مطالعہ کر کے اپنے ذخیرہ الفاظ میں اتنا اضافہ کر لیں گے کہ اب آپ ڈکشنری کی مدد سے 100% عربی سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ماڈیول AR05: یہ اس پروگرام کا آخری ماڈیول ہے۔ اس ماڈیول میں پہنچ کر ہم علم بلاغت (بشمول علم المعانی، علم البیان اور علم البدیع) کا مطالعہ کریں گے اور زبان میں نازک احساسات کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ زبان محض ذریعہ ابلاغ (Means of Communication) ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے انسان اپنے احساسات، جذبات اور فکر کو اس طرح منتقل کرتا ہے کہ لہجے کی ہلکی سی جنبش اور ہم معنی الفاظ میں سے کسی ایک کے انتخاب سے بھی معنی میں فرق پڑ جاتا ہے۔ اس طرح سے اعلی زبان ، خواہ وہ شاعری ہو یا نثر، ایک آرٹ کا درجہ اختیار کر جاتی ہے۔ یہی امور اس ماڈیول میں زیر بحث آئیں گے۔ اب ہم ڈکشنری کا زیادہ استعمال کیے بغیر آرام سے پچھلے ڈیڑھ ہزار سال میں لکھی گئی عربی کتابوں کا · مطالعہ کر سکیں گے، انشاء اللہ۔

ماڈیول AR01 سے اس پروگرام کے ابواب کو دو سیریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اے سیریز میں گرامر اور بلاغت کے قوانین سکھائے گئے ہیں ۔ان قوانین کے استعمال کے لئے قرآن مجید سے پریکٹس کروائی گئی ہے۔ بی سیریز میں زبان کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لئے قرآن مجید، حدیث اور ادبیات اسلامیہ سے اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔ ہم نے اس کے ذخیرہ الفاظ اور اسالیب کو سیکھتے ہوئے ان اقتباسات کا ترجمہ کرنا ہے۔ ہمیں یہ قوانین یا الفاظ کے معانی کو رٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مشقوں کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ قوانین اور الفاظ خود بخود ہمارے ذہن میں راسخ ہوتے چلے جائیں گے۔

اس پروگرام کے ذریعے ہم نہ تو عربی بول چال پر قادر ہو سکیں گے اور نہ ہی عربی زبان کے ادیب بن سکیں گے مگر یہ پروگرام ہمیں یہ مقاصد حاصل کرنے میں مدد ضرور کرے گا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہمیں زبان سمجھنے کے قابل بنانا ہے کیونکہ دین کے طالب علم کی ضرورت یہی ہے کہ وہ عربی سمجھ سکے اور قرآن و حدیث اور عربی کتابوں کا مطالعہ کر سکے۔ عربی بول چال پر قدرت کے لئے ہمیں عرب ماحول اور تحریر سیکھنے کے لئے ایک استاذ کی ضرورت رہے گی جو ہماری تحریروں کی اصلاح کر سکے۔

ماڈیول AR01 ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے کلک کیجیے۔
ماڈیول AR02, 03, 04, 05 صرف رجسٹرڈ طلباء و طالبات کے لیے ہیں۔ انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے پہلے رجسٹریشن فارم پر کیجیے۔ فارم کے لیے رجسٹریشن پر کلک کیجیے۔

پہلا ماڈیول ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس بٹن پر کلک کیجیے۔

بقیہ تمام ماڈیولز صرف رجسٹرڈ طلباء و طالبات کے لیے ہیں۔ انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے پہلے رجسٹریشن فارم پر کیجیے۔ فارم کے لیے رجسٹریشن پر کلک کیجیے۔

Islamic Studies Program Registration