مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ

الحمد للہ ہم مسلم ہیں اور بحیثیت مسلمان ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسلام کی دعوت ہم دنیا کے ہر ایک گوشے تک پھیلائیں۔ دعوت دین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس شخص کے سامنے ہم اسلام کی دعوت پہنچا رہے ہیں، ہم اس کے مذہب ، نظریات اور خیالات سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ اس کی نفسیات ، عقائد اور مذہب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے بات کی جا سکے۔ اللہ تعالی نے ہمیں قرآن مجید میں یہ بات سکھائی ہے کہ دین کی دعوت پیش کرتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ پہلے مشترک امور پر بات ہو اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر ان باتوں کی دعوت دی جائے ، جہاں اسلام دیگر مذاہب سے مختلف مقام پر کھڑا ہے۔ دین کے جو پرجوش داعی، اس بات کا خیال نہیں رکھتے، وہ اپنی زبا ن سے ایسی منفی بات نکال بیٹھتے ہیں جس سے مخاطب کے اسلام سے متاثر ہونے کا امکان ختم ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت جنم لیتی ہے۔

اسلامک اسٹڈیز پروگرام چونکہ دین کے طالب علموں اور دعوت دین کا شوق رکھنے والے احباب کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، اس وجہ سے اس میں ہم نے دنیا کے مشہور مذاہب سے متعلق ایک سیریز شامل کی ہے جس کا عنوان ہے ’’مذاہب عالم پروگرام۔‘‘ یہ تقابل ادیان کے عام کورسز سے کچھ مختلف ہے۔ تقابل ادیان کے جو کورسز مختلف دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں میں پڑھائے جا رہے ہیں، انہیں بالعموم متعصبانہ انداز میں لکھا جاتا ہے اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مصنف کے مذہب کی برتری کو بھونڈے سے انداز میں بیان کیا جائے۔ دیگر مذاہب کی منفی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے اور مثبت چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مذہب کے مثبت پہلوؤں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس سے قوم پرستی کے جذبے کی تسکین ہو تو ہو، مگر دعوت دین کے لیے یہ اسلوب نہایت ہی غیر موزوں ہے۔ اس سے نہ تو دیگر مذاہب کا صحیح فہم حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسلام کی دعوت کے لیے کوئی مناسب حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دیگر مذاہب کا نہایت ہی بے تعصبی سے غیر جانبدارانہ مطالعہ کریں تاکہ ان کا صحیح فہم حاصل کرنے کے بعد ان کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کر سکیں۔ کس مذہب میں کیا خوبی ہے اور کیا کمزوری، اس کا فیصلہ قارئین کی ذہانت پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ان میں استدلال کی طاقت پیدا ہو۔
یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس کے مصنف حافظ محمد شارق صاحب، جو ہماری ٹیم کے انتہائی محنتی رکن ہیں، خصوصی شکریے اور تحسین کے مستحق ہیں۔

مذاہب عالم پروگرام کا اسٹرکچر

دین کے ایسے طالب علم جو علم ،ذہانت اور علاقے کے اعتبار سے مختلف سطح پر ہوں، ان کی ضروریات مختلف ہوتی ہے۔ طالب علموں میں اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پروگرام کو مندرجہ ذیل ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے:
· ماڈیول WR01: اس ماڈیول میں ہم دنیا کے بڑے مذاہب جیسے ہندومت، عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور الحاد کاتعارف اور ان کی تاریخ کا اجمالی مطالعہ کریں گے۔

· ماڈیول WR02: اس ماڈیول میں ہم ہندومت کا تفصیلی مطالعہ کریں گے ۔

· ماڈیول WR03: یہ ماڈیول الحاد کے مفصل مطالعے پر مشتمل ہو گا۔

· ماڈیول WR04: اس ماڈیول میں ہم یہودیت کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

· ماڈیول WR05: اس ماڈیول میں ہم عیسائیت کا مفصل مطالعہ کریں گے۔

· ماڈیول WR06: یہ ماڈیول بدھ مذہب کے مطالعہ کے لیے وقف ہو گا۔

· ماڈیول WR07: یہ ماڈیول دنیا کے اہم مذاہب کے علاوہ دیگر مذاہب مثلاً کنفیوشسزم، تاؤازم، پارسی اور دیگر پر مشتمل ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ماڈیول میں مختلف مذہبی تحریکوں کا بھی مطالعہ بھی کریں گے۔

مذاہب عالم پروگرام کے مقاصد

اس پروگرام کے مقاصد یہ ہیں:

· دنیا کے بڑے مذاہب سے واقفیت حاصل کرنا

· ان علوم سے واقفیت حاصل کرنا جو دنیا کی دیگر اقوام میں پائے جاتے ہیں

· دین اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مشترک پہلو تلاش کرنا تاکہ ان کی مدد سے اسلام کی دعوت کی حکمت عملی تیار کی جائے



Islamic Studies Program Registration