کچھ ہمارے بارے میں

آئی ایس پی کی تنظیم (Organization)
1۔ آئی ایس پی کی ابتدا طلبا سے ہوتی ہے۔ ایک طالب علم خود کو رجسٹرڈ کرواتا ، پڑھائی کرتا ، اپنے استاد سے انٹرایکٹ کرتا اور مختلف کورسز کی تکمیل کرتا رہتا ہے ۔

2۔ اگر طالب علم کی کارکردگی اچھی ہو تو اس کے استاد یعنی مینٹر کی سفارش اور اس طالب علم کی خواہش پر اسے ایلیٹ اسٹوڈینٹس کاؤنسل کا ممبر بنادیا جاتا ہے۔ اس کاؤنسل یں طلبا کو ان کے ذوق کے مطابق خصوصی توجہ دی جاتی اور ان میں تجزیاتی صلاحیتوں کو اجاگر کے انہیں آرٹیکلز اور کتب لکھنے کی تربیت دی جاتی، پرزینٹیشن اسکلز کو ابھارا جاتا اور انتظامی معاملات میں تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

3۔ اگر طالب علم ایلیٹ اسٹوڈینٹ کاؤنسل میں اپنی اچھی کارکردگی کا مظاہرا ہ کرتا ہے تو اسے چھ سے بارہ ماہ بعد ایڈوائزری کاؤنسل میں ترقی دے دی جاتی ہے۔یہاں سے آئی ایس پی کی ایدمنسٹریشن کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کونسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے سے متعلق معلومات حاصل کرے اور اپنا مشورہ دے۔

4۔ اس اے سی یعنی ایڈوائزری کاؤنسل کے جو لوگ بہت متحرک ہوتے ہیں، کسی خاص انتظامی یا تعلیمی و تصنیف کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بڑی ذمہ داریاں لینے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو انہیں ایکزیکٹو کاؤنسل کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اہم فیصلوں کا اختیار اسی باڈی کے پاس ہے۔

5۔ یہ ایکزیکٹو کاؤنسل اپنے میں سے ایک ممبر کو بطور کوآرڈنیٹر منتخب کرتی ہے۔ اسے کوئی اضافی اختیارات حاصل نہیں ہوتے بلکہ پورے کے پورے کام کو ایک سمت میں چلانا اور ان میں باہمی ربط برقرار رکھنا اس کے ذمے ہوتا ہے۔ فی الوقت یہ ذمہ پروفیسر محمد عقیل صاحب کے پاس ہے اور ممبرز جب چاہیں، انھیں ہٹا سکتے ہیں۔ یہ امرہم شوری بینہم کے اصول کے تحت تمام فیصلے اجتماعی طور پر مل جل کر کرتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ تمام فیصلے ’’اجماع” سے کیے جائیں ورنہ کم از کم اکثریتی ووٹ کے مطابق فیصلہ ضرور ہو۔
6۔ ای سی اپنے کام کے لیے اے سی یعنی ایڈوائزری کونسل کو جواب دہ ہے۔اے سی کے سامنے ہر ماہ کام کے اسٹیٹس کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔اے سی کا ہر ممبر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں انکوائری یا آڈٹ کرے، ای سی کو مشورہ دے۔ ای سی فیصلہ کرنے میں گوکہ خودمختار ہے مگر اس پر لازم ہے کہ وہ اس ممبر کے مشورے پر ہمدردانہ غور کرے اور اگر مشورے کو نہ مانے تو اس ممبر کو دلائل سے مطمئن بھی کرے۔ اس سے ہر ممبر کو یہ اعتماد رہتا ہے کہ وہ اس پروگرام میں محض بطور ربڑ اسٹیمپ نہیں ہے بلکہ اس کی رائے کی اہمیت ہے۔ جو بھی کام کرے گا، وہ آگے آ جائے گا۔
7۔ ہر پراجیکٹ اور کام کے لیے ایک ٹیم بنائی گئی ہے۔ اس ٹیم کا ایک لیڈر ہوتا ہے جو اس کام سے بہت ہی زیادہ کمٹڈ ہوتا ہے۔ یہ سب ای سی کو بذریعہ کو آرڈی نیٹر رپورٹ کرتے ہیں۔
کامریڈ شپ
تنظیمی پس منظر میں کامریڈ شپ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک ساتھی کو مشکل ہو، تو سبھی کو آگے بڑھ کر اسے حل کرنا چاہیے۔سب کچھ چھوڑ کر گویا اس ایک ساتھی کے لیے سیسہ پلائی دیوار بننا چاہیے۔ اس سے نہ صرف اس ساتھی بلکہ بقیہ سب کو بھی یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر وہ کبھی مشکل میں مبتلا ہوئے تو بقیہ ساتھی اس کے لیے اسی درجے کی قربانی دیں گے۔ یہ چیز ایک بانڈ کی شکل اختیار کر جاتی ہے جو اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ خونی رشتے اس کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں۔ یہ ایک نوعیت کی جذباتی انشورنس ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو بقیہ حصے بھی اس تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔
حال ہی میں آئی ایس پی وابستہ ہمارے کئی ساتھی کرائسز سے گزرے ہیں: اس وقت مبشر بھائی کی یادداشت جو ایک ایکسڈنٹ کے نتیجے میں چلی گئی تھی اس پر تمام لوگ رابطے میں رہتے اور عقیل بھائی سے اپڈیٹ حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ کوآرڈنیٹر جب ہاسپٹلائز رہے تواس پر بھی آئی ایس پی ممبران کا رویہ بڑا ہمدردانہ تھا۔ بعض اور ساتھوں کے بھی کرائسز سے گزرے ہیں اور آئی ایس پی کے ممبران ان کی اخلاقی سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد داد وصول کرنا نہیں بلکہ آپ سب کے سامنے یہ بات واضح کرنا ہے کہ ہم آئی ایس پی میں دین کے توسط سے جڑے اس رشتے کو کس طرح لے کر چلتے ہیں۔ہمارے ہاں آئی ایس پی ایک روکھی پھیکی آرگنائزیشن کا نام نہیں بلکہ ایک فیملی ہے۔