تعا ر ف

 :قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے

تمام اہل ایمان کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ سب کے سب (دین کی تعلیم کے لیے) نکل کھڑے ہوں لیکن ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر ہر گروہ (اور طبقے) میں سے ایک گروہ نکلے تاکہ وہ دین میں گہری بصیرت حاصل کریں اور پھر واپس جا کر اپنی قوم میں انذار کریں تاکہ یہ لوگ  محتاط رہیں۔  التوبہ 9:122

قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق مسلمانوں کے ہر گروہ اور طبقے میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہییں جو دین کے اندر گہری بصیرت حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے گروہ اور طبقے کے لوگوں میں اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔  انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے سے ملتے جلتے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا ہے اور انہی کی باتیں غور سے سنتا ہے۔ ایک جدید تعلیم یافتہ شخص، دین کو اسی عالم سے حاصل کرنا زیادہ پسند کرتا ہے جو خود بھی جدید تعلیم یافتہ ہو۔ اسی طرح ایک دیہاتی اسی عالم کی بات سننا زیادہ پسند کرتا ہے جو اسی کے ماحول میں رہتا ہو اور اسی کی زبان میں گفتگو کرتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر قوم، گروہ اور طبقے کے لوگوں کو حکم دیا ہےکہ ان میں سے بعض لوگ دین میں گہری بصیرت پیدا کریں اور پھر اپنی قوم ، گروہ یا طبقے میں دعوت و تبلیغ اور “انذار” کا کام کریں۔ “انذار” کا مطلب ہے خبردار کرنا۔ ایک عالم دین کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت،  کہ اس کائنات کا ایک رب ہے اور ہم سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں، سے خبردار کرتا رہے۔  ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب دے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کے لیے تیاری میں ان کی مدد کرے۔ اسی مقصد کے لیے لوگ دین کا علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔

دین اسلام کے طالب علم جب دین کا مطالعہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ان کے سامنے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علوم دینیہ کا مطالعہ کس طریقے سے کیا جائے۔ علوم دینیہ سے ہماری مراد دین اسلام کی پوری تاریخ میں ترقی پانے والے وہ علوم ہیں جو کسی نہ کسی پہلو سے دین سے متعلق ہیں اور ان کا مطالعہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔  ان میں عربی زبان، علوم القرآن، علوم الحدیث، فقہ اسلامی، تاریخ، سیرت اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعہ کے مضامین شامل ہیں۔ ہمارے دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں میں ان میں سے بہت سے علوم فل ٹائم بنیادوں پر پڑھائے جاتے ہیں۔ علوم دینیہ کی اشاعت میں یہ ادارے نہایت ہی غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں تاہم اکثر حالات میں عام تعلیم یافتہ پروفیشنلز اور دنیاوی علوم کے طالب علموں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ  چھوڑ کر  خود کو دینی علوم کی تعلیم کے لیے وقف کر دیں۔ دوسری طرف ان کے اندر دینی علوم کو سیکھنے کی شدید خواہش بھی ہوتی ہے جو اگر پوری نہ ہو سکے، تو انسان ایک شدید فرسٹریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

١٩٩٠ کے عشرے میں جس انفارمیشن انقلاب نے جنم لیا، اس کے نتیجے میں ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور فاصلے اس درجے میں سمٹ چکے ہیں کہ اب سے چند عشرے پہلے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ کمیونی کیشن  کے اس انقلاب نے ہر طرح کی تعلیم  کے فروغ کے لیے ایک زبردست امکان پیدا کیا ہے اور وہ ہے  آن لائن تعلیم کا نظام۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں آن لائن تعلیم کا ماڈل تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔  یہ ویب سائٹ اسی پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی علوم کی تعلیم کو آن لائن کیا جائے تاکہ معاشرے کے  مختلف طبقات میں موجود ایسے طالب علموں کی خدمت کی جا سکے جو دین کا علم پوری بصیرت اور گہرائی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے کسی مدرسے یا یونیورسٹی میں فل ٹائم داخلہ لینا مشکل ہے۔