اسلامک اسٹڈیز پروگرام کیوں؟

دور جدید کا ایک طالب علم جب دینی علوم کے حصول کی خواہش رکھتا ہو تو اس کے لئے چند مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جن کے باعث ایک جدید طالب علم کو علوم دینیہ کے حصول میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مشکلات کے چند پہلو یہ ہیں:

ہمارے ہاں علوم دینیہ کی تدریس کا مقصد بالعموم یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص مکتب فکر کے داعین اور مبلغین کو تیار کیا جائے جو مکمل طور پر دین کی کسی ایک تعبیر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسی کی نشر و اشاعت میں اپنی زندگیاں بسر کر دیں۔ اس کے نتیجے میں تنگ نظری، تعصب اور بالآخر تشدد کے سوا کچھ اور پیدا نہیں ہوتا۔ علوم دینیہ کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں وسعت نظری پیدا ہو اور تعصب کا خاتمہ کیا جا سکے اور مخصوص فرقوں کے مبلغین کی بجائے اسلام کے مبلغین تیار کیے جائیں۔

علوم دینیہ کی تدریس کے لئے جو نصاب تشکیل دیا گیا ہے وہ قرون وسطی میں مخصوص ضروریات اور مخصوص حالات کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں جن دنیاوی علوم کی ضرورت موجود تھی، انہیں شامل کر کے ایک نصاب تشکیل دیا گیا۔ معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان میں سے بہت سے علوم اب غیر متعلق (Obsolete) ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس دور جدید میں بہت سے ایسے علوم ارتقاء پذیر ہو چکے ہیں جو کہ دعوت دین سے براہ راست متعلق ہیں۔ غیر متعلق علوم کا نصاب سے انخلاء اور متعلق علوم کی نصاب میں شمولیت دور جدید کے نصاب کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

قدیم طریقہ تعلیم عام طور پر یہ رہا ہے کہ ایک استاذ کتاب کھول کر بیٹھ جائے اور شاگرد اس کے گرد حلقہ بنا لیں۔ استاذ یا کوئی لائق شاگرد کتاب کو پڑھتا جائے اور استاذ حسب ضرورت اسے روک کر کتاب کی تشریح کرتا چلا جائے۔ یہ طریق کار موجودہ دور میں متروک ہو چکا ہے اور جب کسی جدید تعلیم یافتہ شخص کو اس طریق کار کے ذریعے تعلیم پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اس سے سخت وحشت محسوس کرتا ہے۔ جدید نظام تعلیم میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں طالب علموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی پیدا کی جا سکے۔

مروجہ طریقہ تعلیم میں جدید ترین آڈیو ویژول ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا جبکہ جدید نظام تعلیم میں اس کی مدد سے مشکل ترین تصورات کو بھی نہایت آسانی کے ساتھ ایک اوسط درجے کے طالب علم کے ذہن میں اتارا جا سکتا ہے۔

جدید یونیورسٹیوں میں علوم اسلامیہ میں گریجویشن، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر جو کورسز پڑھائے جا رہے ہیں، ان میں اوپر بیان کردہ مسائل نہیں ہیں لیکن ان میں صرف وہ طالب علم ہی شریک ہو سکتے ہیں، جو خود کو فل ٹائم اسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ ایسے لوگ جو ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے ہیں۔

علوم دینیہ کے مروجہ نظام تعلیم میں طویل وقت درکار ہوتا ہے جو کہ موجودہ دور میں نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ افراد دینی تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ علوم دینیہ کے نصاب کو اتنا لچک دار (Flexible) ہونا چاہیے کہ ہر شخص اپنے دستیاب اوقات اور ذہنی استعداد کے مطابق علوم دینیہ کا مطالعہ کر سکے۔

مروجہ نظام تعلیم کا ایک مسئلہ اس کا جمود ہے۔ اس طریق تعلیم میں عام طور پر طالب علموں کے انفرادی مسائل، ہر طالب علم کی مخصوص ذہنی سطح اور مخصوص حالات کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جدید نظام تعلیم میں اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔

مروجہ نظام تعلیم میں کسی بھی قسم کے علوم کی تدریس کے لئے لازم ہے کہ تدریس گاہ کی ایک بڑی سی عمارت ہو، جس میں دفاتر، لائبریریوں اور لیبارٹریوں سمیت ہر قسم کی سہولت میسر ہو۔ مخصوص اوقات میں لیکچر دینے کے لئے اساتذہ موجود ہوں۔ اساتذہ کے علاوہ بھی ایڈمن اسٹاف بھی ادارے میں موجود رہے۔ ظاہر ہے اس سب کے لئے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادات کے باعث اب یہ ممکن ہو چکا ہے کہ بڑی بڑی عمارتوں اور اسٹاف کے بغیر تدریس کا پورا عمل انٹرنیٹ کے ذریعے سرانجام دیا جائے۔ اب کروڑوں روپوں کا پراجیکٹ محض چند ہزار روپے میں مکمل کرنا ممکن ہو چکا ہے۔

مروجہ نظام تعلیم میں اساتذہ اور طالب علموں کا ایک جگہ پر موجود ہونا بہت ضروری تھا جس کے بغیر کسی تدریس کا تصور ممکن نہیں تھا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اب اس کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔ اساتذہ اور طالب علم دنیا کے مختلف گوشوں میں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے ایک ورچوئل کلاس روم میں اکھٹا ہو سکتے ہیں اور اپنے اپنے اوقات کو خود مینج کرتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

ان مسائل کی بنیاد پر علوم دینیہ کی تعلیم کے لئے ایک جدید نصاب اور طریق تعلیم متعین کرنے کی ضرورت ہے جس میں اوپر بیان کردہ مسائل کا حل پیش کیا گیا ہو۔ تاہم ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ان تمام مسائل کے باوجود روایتی طریقہ تدریس کی اپنی اہمیت ہے اور آن لائن تعلیم کا کوئی نظام بھی اس کا متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ آن لائن تعلیم کا نظام مروجہ نظام تعلیم کے ساتھ مل کر کام کرے اور ان لوگوں تک دینی تعلیم کو پہنچائے جو کہ کسی وجہ سے مروجہ نظام تعلیم کا حصہ نہ بن سکتے ہوں۔

ISP Registration