کورسز کا طریق کار

علوم دینیہ کی تدریس کے لئے جدید نظام تعلیم کے کورس کا جو خاکہ ہم اس مضمون میں بیان کر رہے ہیں، اس کے بنیادی طور پر تین حصے ہیں: طریق تعلیم، قواعد و ضوابط اور نصاب تعلیم ۔ پہلے دو کا مطالعہ ہم اسی سیکشن میں کریں گے جبکہ نصاب کے لیے علیحدہ سیکشن میں بحث ہو گی۔

طریق تعلیم

جدید نظام تعلیم میں علوم دینیہ کی تدریس کے لئے وہی طریق کار استعمال کیا جائے گا جس کے مطابق پوری دنیا کے اچھے تعلیمی اداروں میں دنیاوی علوم کی تدریس جاری ہے۔ اس طریق تعلیم کے اہم پہلو یہ ہیں

@ اساتذہ لفظ بہ لفظ کتاب کو پڑھ کر سننے سنانے کی بجائے لیکچر کی صورت میں کسی باب کے اہم اور مشکل نکات ایک پریزنٹیشن کی مدد سے بیان کریں گے ۔ طالب علم لیکچر سے پہلے کتاب کا مطالعہ خود کر کے آئے گا اور اپنے سوالات استاذ کے سامنے پیش کرے گا۔ لیکچر کے بعد طالب علم نصابی کتب کا دوبارہ مطالعہ کرے گا اور اس کے نتیجے میں جو مزید سوالات پیدا ہوں گے، انہیں اگلی کلاس میں استاذ کے سامنے رکھ دے گا۔

@ لیکچر دینے کے لئے ورچوئل کلاس روم کا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے اور ریکارڈ کئے ہوئے لیکچر بھی طالب علموں کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

@ طالب علموں کو ان کے گھر کے لئے اسائنمنٹ دے دی جائیں گی۔ یہ بالعموم متعلقہ علم سے متعلق ایسے سوالات اور مسائل پر مبنی ہوں گی جس کے نتیجے میں طالب علم کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوں گی اور وہ بہتر سے بہتر انداز میں اپنی فکر کو پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گا۔

@ استاذ و شاگرد کا تعلق کلاس روم کے علاوہ بھی قائم رہے گا۔ شاگرد اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو کسی بھی مناسب وقت پر فون یا ای میل کے ذریعے استاذ کے سامنے رکھ سکے گا۔

@ علوم کے عملی اطلاق کے لئے کیس اسٹڈیز کا سہارا لیا جائے گا۔ طالب علموں کے سامنے ان کی عملی زندگی کا کوئی مسئلہ رکھ دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ متعلقہ علوم کو اس عملی صورتحال پر منطبق کریں۔ طالب علم مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مباحثہ کریں گے۔ استاذ بھی اس عمل میں شریک ہو گا اور طالب علموں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا چلا جائے گا۔ اس پورے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مسئلے کے کسی ممکنہ حل تک پہنچا جائے گا۔ اس طریق کار سے طالب علموں کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ تمام علوم دینیہ بالخصوص علم حدیث اور علم فقہ میں اس طریق کار کا بڑے پیمانے پر اطلاق کیا جائے گا۔

@ کورس کے ابتدائی اور متوسط درجے اردو اور انگریزی زبانوں میں تیار کیے جائیں گے۔ ان لیولز میں اتنی عربی سکھا دی جائے گی کہ طالب علم بلا تکلف عربی میں مطالعہ کر سکے۔

@ جدید طریق تعلیم میں صرف نصابی کتب پر ہی اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ طالب علموں کو اضافی مواد اور ہر ماڈیول سے متعلق ایک ببلیوگرافی بھی فراہم کر دی جائے گی جس کے مطالعے سے طالب علم مزید علم حاصل کر سکے گا۔

@ امتحان کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہو گی کہ کوئی طالب علم رٹے رٹائے جوابات نقل کر کے پاس نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس طالب علم کو اپنے حاصل کردہ علم کا پوری طرح اطلاق کرتے ہوئے سوالات کے جوابات اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لکھنا ہوں گے۔

@ اس تفصیل کے مطابق ہم علوم دینیہ کی تدریس کا ایسا طریق کار وضع کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں اعلی درجے کی صلاحیت رکھنے والے اہل علم تیار کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہاں ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ یہ آن لائن نظام تعلیم، مروجہ نظام تعلیم کا نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے بلکہ یہ اس کے ساتھ مل کر بطور سپلیمنٹ ان لوگوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے جو مروجہ نظام تعلیم کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔

Join Islamic Studies Program