نئے طالب علم

اسلامک اسٹڈیز پروگرام میں آپ عربی، فقہ، قرآن، حدیث، تاریخ ، تزکیہ نفس، مسلم اور غیر مسلم مذاہب کے موازنے پر مبنی علوم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ یہ تعلیم ہر قسم کے فرقہ ورانہ تؑصب سے بالاتر ہونے کے ساتھ ساتھ جدید طرز تعلیم کے اصولوں سے آراستہ ہے۔ یہاں آپ کو ہر کورس کا ایک استاد فراہم کیا جارہا ہے جو آپ کے سوالات کے جواب دینے، آپ کے اسائنمنٹ چیک کرنے اور آپ کو ہر قدم گائیڈ کرنے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔

دین اسلام کے طالب علم جب دین کا مطالعہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ان کے سامنے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علوم دینیہ کا مطالعہ کس طریقے سے کیا جائے۔ علوم دینیہ سے ہماری مراد دین اسلام کی پوری تاریخ میں ترقی پانے والے وہ علوم ہیں جو کسی نہ کسی پہلو سے دین سے متعلق ہیں اور ان کا مطالعہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہمارے دینی مدارس میں ان میں سے بہت سے علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ علوم دینیہ کی اشاعت میں یہ مدارس نہایت ہی غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔

1990 کے عشرے میں جس انفارمیشن انقلاب نے جنم لیا، اس کے نتیجے میں ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور فاصلے اس درجے میں سمٹ چکے ہیں کہ اب سے چند عشرے پہلے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ کمیونی کیشن کے اس انقلاب نے ہر طرح کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک زبردست امکان پیدا کیا ہے اور وہ ہے آن لائن تعلیم کا نظام۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں آن لائن تعلیم کا ماڈل تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس تحریر میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آن لائن تعلیم کے اس ماڈل کو علوم دینیہ کی تدریس کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ایک نصاب تعلیم بھی پیش کرنے کی کوشش کریں گے جس کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک طالب علم پوری طرح علوم دینیہ سے واقف ہو جائے اور ان میں مناسب درجے کی مہارت حاصل کر لے۔

علوم دینیہ کی تدریس کا مروجہ نظام تعلیم

دور جدید کا ایک طالب علم جب دینی علوم کے حصول کی خواہش رکھتا ہو تو اس کے لئے چند مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جن کے باعث ایک جدید طالب علم کو علوم دینیہ کے حصول میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مشکلات کے چند پہلو یہ ہیں:

ہمارے ہاں علوم دینیہ کی تدریس کا مقصد بالعموم یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص مکتب فکر کے داعین اور مبلغین کو تیار کیا جائے جو مکمل طور پر دین کی کسی ایک تعبیر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسی کی نشر و اشاعت میں اپنی زندگیاں بسر کر دیں۔ اس کے نتیجے میں تنگ نظری، تعصب اور بالآخر تشدد کے سوا کچھ اور پیدا نہیں ہوتا۔ علوم دینیہ کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں وسعت نظری پیدا ہو اور تعصب کا خاتمہ کیا جا سکے اور مخصوص فرقوں کے مبلغین کی بجائے اسلام کے مبلغین تیار کیے جائیں۔

علوم دینیہ کی تدریس کے لئے جو نصاب تشکیل دیا گیا ہے وہ قرون وسطی میں مخصوص ضروریات اور مخصوص حالات کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں جن دنیاوی علوم کی ضرورت موجود تھی، انہیں شامل کر کے ایک نصاب تشکیل دیا گیا۔ معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان میں سے بہت سے علوم اب غیر متعلق (Obsolete) ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس دور جدید میں بہت سے ایسے علوم ارتقاء پذیر ہو چکے ہیں جو کہ دعوت دین سے براہ راست متعلق ہیں۔ غیر متعلق علوم کا نصاب سے انخلاء اور متعلق علوم کی نصاب میں شمولیت دور جدید کے نصاب کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

قدیم طریقہ تعلیم عام طور پر یہ رہا ہے کہ ایک استاذ کتاب کھول کر بیٹھ جائے اور شاگرد اس کے گرد حلقہ بنا لیں۔ استاذ یا کوئی لائق شاگرد کتاب کو پڑھتا جائے اور استاذ حسب ضرورت اسے روک کر کتاب کی تشریح کرتا چلا جائے۔ یہ طریق کار موجودہ دور میں متروک ہو چکا ہے اور جب کسی جدید تعلیم یافتہ شخص کو اس طریق کار کے ذریعے تعلیم پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اس سے سخت وحشت محسوس کرتا ہے۔ جدید نظام تعلیم میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں طالب علموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی پیدا کی جا سکے۔

مروجہ طریقہ تعلیم میں جدید ترین آڈیو ویژول ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا جبکہ جدید نظام تعلیم میں اس کی مدد سے مشکل ترین تصورات کو بھی نہایت آسانی کے ساتھ ایک اوسط درجے کے طالب علم کے ذہن میں اتارا جا سکتا ہے۔

جدید یونیورسٹیوں میں علوم اسلامیہ میں گریجویشن، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر جو کورسز پڑھائے جا رہے ہیں، ان میں اوپر بیان کردہ مسائل نہیں ہیں لیکن ان میں صرف وہ طالب علم ہی شریک ہو سکتے ہیں، جو خود کو فل ٹائم اسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ ایسے لوگ جو ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے ہیں۔

علوم دینیہ کے مروجہ نظام تعلیم میں طویل وقت درکار ہوتا ہے جو کہ موجودہ دور میں نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ افراد دینی تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ علوم دینیہ کے نصاب کو اتنا لچک دار (Flexible) ہونا چاہیے کہ ہر شخص اپنے دستیاب اوقات اور ذہنی استعداد کے مطابق علوم دینیہ کا مطالعہ کر سکے۔

مروجہ نظام تعلیم کا ایک مسئلہ اس کا جمود ہے۔ اس طریق تعلیم میں عام طور پر طالب علموں کے انفرادی مسائل، ہر طالب علم کی مخصوص ذہنی سطح اور مخصوص حالات کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جدید نظام تعلیم میں اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔

مروجہ نظام تعلیم میں کسی بھی قسم کے علوم کی تدریس کے لئے لازم ہے کہ تدریس گاہ کی ایک بڑی سی عمارت ہو، جس میں دفاتر، لائبریریوں اور لیبارٹریوں سمیت ہر قسم کی سہولت میسر ہو۔ مخصوص اوقات میں لیکچر دینے کے لئے اساتذہ موجود ہوں۔ اساتذہ کے علاوہ بھی ایڈمن اسٹاف بھی ادارے میں موجود رہے۔ ظاہر ہے اس سب کے لئے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادات کے باعث اب یہ ممکن ہو چکا ہے کہ بڑی بڑی عمارتوں اور اسٹاف کے بغیر تدریس کا پورا عمل انٹرنیٹ کے ذریعے سرانجام دیا جائے۔ اب کروڑوں روپوں کا پراجیکٹ محض چند ہزار روپے میں مکمل کرنا ممکن ہو چکا ہے۔

مروجہ نظام تعلیم میں اساتذہ اور طالب علموں کا ایک جگہ پر موجود ہونا بہت ضروری تھا جس کے بغیر کسی تدریس کا تصور ممکن نہیں تھا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اب اس کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔ اساتذہ اور طالب علم دنیا کے مختلف گوشوں میں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے ایک ورچوئل کلاس روم میں اکھٹا ہو سکتے ہیں اور اپنے اپنے اوقات کو خود مینج کرتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
ان مسائل کی بنیاد پر علوم دینیہ کی تعلیم کے لئے ایک جدید نصاب اور طریق تعلیم متعین کرنے کی ضرورت ہے جس میں اوپر بیان کردہ مسائل کا حل پیش کیا گیا ہو۔ تاہم ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ان تمام مسائل کے باوجود روایتی طریقہ تدریس کی اپنی اہمیت ہے اور آن لائن تعلیم کا کوئی نظام بھی اس کا متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ آن لائن تعلیم کا نظام مروجہ نظام تعلیم کے ساتھ مل کر کام کرے اور ان لوگوں تک دینی تعلیم کو پہنچائے جو کہ کسی وجہ سے مروجہ نظام تعلیم کا حصہ نہ بن سکتے ہوں۔

اسلامک اسٹڈیز پروگرام میں علوم دینیہ کی تدریس کا نظام

اس نظام تعلیم میں علوم دینیہ کی تدریس کے لئے وہی طریق کار استعمال کیا جائے گا جس کے مطابق پوری دنیا کے اچھے تعلیمی اداروں میں دنیاوی علوم کی تدریس جاری ہے۔ اس طریق تعلیم کے اہم پہلو یہ ہیں:

اساتذہ لفظ بہ لفظ کتاب کو پڑھ کر سننے سنانے کی بجائے لیکچر کی صورت میں کسی باب کے اہم اور مشکل نکات ایک پریزنٹیشن کی مدد سے بیان کریں گے ۔ طالب علم لیکچر سے پہلے کتاب کا مطالعہ خود کر کے آئے گا اور اپنے سوالات استاذ کے سامنے پیش کرے گا۔ لیکچر کے بعد طالب علم نصابی کتب کا دوبارہ مطالعہ کرے گا اور اس کے نتیجے میں جو مزید سوالات پیدا ہوں گے، انہیں اگلی کلاس میں استاذ کے سامنے رکھ دے گا۔

لیکچر دینے کے لئے ورچوئل کلاس روم کا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے اور ریکارڈ کئے ہوئے لیکچر بھی طالب علموں کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

طالب علموں کو ان کے گھر کے لئے اسائنمنٹ دے دی جائیں گی۔ یہ بالعموم متعلقہ علم سے متعلق ایسے سوالات اور مسائل پر مبنی ہوں گی جس کے نتیجے میں طالب علم کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوں گی اور وہ بہتر سے بہتر انداز میں اپنی فکر کو پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گا۔

استاذ و شاگرد کا تعلق کلاس روم کے علاوہ بھی قائم رہے گا۔ شاگرد اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو کسی بھی مناسب وقت پر فون یا ای میل کے ذریعے استاذ کے سامنے رکھ سکے گا۔

علوم کے عملی اطلاق کے لئے کیس اسٹڈیز کا سہارا لیا جائے گا۔ طالب علموں کے سامنے ان کی عملی زندگی کا کوئی مسئلہ رکھ دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ متعلقہ علوم کو اس عملی صورتحال پر منطبق کریں۔ طالب علم مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مباحثہ کریں گے۔ استاذ بھی اس عمل میں شریک ہو گا اور طالب علموں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا چلا جائے گا۔ اس پورے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مسئلے کے کسی ممکنہ حل تک پہنچا جائے گا۔ اس طریق کار سے طالب علموں کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ تمام علوم دینیہ بالخصوص علم حدیث اور علم فقہ میں اس طریق کار کا بڑے پیمانے پر اطلاق کیا جائے گا۔

کورس کے ابتدائی اور متوسط درجے (Levels) اردو اور انگریزی زبانوں میں تیار کیے جائیں گے۔ ان لیولز میں اتنی عربی سکھا دی جائے گی کہ طالب علم بلا تکلف عربی میں مطالعہ کر سکے۔

جدید طریق تعلیم میں صرف نصابی کتب پر ہی اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ طالب علموں کو اضافی مواد اور ہر ماڈیول سے متعلق ایک ببلیوگرافی بھی فراہم کر دی جائے گی جس کے مطالعے سے طالب علم مزید علم حاصل کر سکے گا۔

امتحان کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہو گی کہ کوئی طالب علم رٹے رٹائے جوابات نقل کر کے پاس نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس طالب علم کو اپنے حاصل کردہ علم کا پوری طرح اطلاق کرتے ہوئے سوالات کے جوابات اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لکھنا ہوں گے۔
یہاں ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ یہ آن لائن نظام تعلیم، مروجہ نظام تعلیم کا نعم البدل (Substitute) نہیں ہو سکتا ہے بلکہ یہ اس کے ساتھ مل کر بطور سپلیمنٹ (Supplement) ان لوگوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے جو مروجہ نظام تعلیم کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔

قواعد و ضوابط

اس طریق تعلیم سے متعلق ان قواعد و ضوابط کا اطلاق ہر طالب علم پر ہو گا۔

ایڈمشن لینے کی شرائط
اس کورس کے مخاطبین وہ جدید تعلیم یافتہ افراد ہیں جو دینی علوم کے حصول سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مدارس، یونیورسٹیوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے وہ طالب علم اس کورس سے استفادہ کر سکتے ہیں جو علوم اسلامیہ میں اسپیشلائزیشن کر رہے ہیں۔

کورس میں داخلے کے لئے کم از کم تعلیمی استعداد میٹرک یا او لیول ہے۔ طالب علم کے لئے اردو اور انگریزی میں سے کسی ایک زبان پر کم از کم اتنا عبور ہونا ضروری ہے جس سے وہ ان زبانوں کی کتب کا مطالعہ کر سکے اور اپنا ما فی الضمیر بیان کر سکے۔

ہر ماڈیول کی تکمیل کی زیادہ سے زیادہ مدت ایک سال ہوگی۔ کم سے کم مدت کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہر طالب علم اپنی ذہنی صلاحیت اور دستیاب وقت کے مطابق جتنے عرصے میں بھی چاہے، اپنے ماڈیول کو مکمل کر سکتا ہے۔

کورس کی فی الحال کوئی فیس نہیں البتہ بعد میں اس رعایت می تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ طالب علموں میں اللہ تعالی کے لیے خرچ کرنے کی عادت کو پختہ کرنے کے لیے اور احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے البتہ یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ کچھ رقم بطور فیس، اپنے قریب ہی کسی ایک شخص کو ادا کر دیں جس کے بارے میں وہ جانتے ہوں کہ وہ واقعتاً ضرورت مند ہے اور پیشہ ور بھکاری نہیں ہے۔

کورس میں داخلے کے لئے نسل، رنگ، جغرافیائی علاقہ اور مذہب کی کوئی شرط نہیں ہے۔ تمام مذاہب، مکاتب فکر، جغرافیے اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد اس کورس میں داخلے کے لئے یکساں اہلیت کے حامل ہیں۔

ایڈمیشن لینے کا طریقہ کار
اس لنک پر جاکر رجسٹریشن فام پر کریں۔ آپ کو آپ کے مطلوبہ پروگرام میں ایڈمیشن دے دیا جائے گا۔

http://www.islamic-studies.info/?page_id=1209

ایڈمیشن کے بعد
ہر طالب علم کا ایڈمیشن تین ماہ کی عارضی مدت کے لئے ہوگا۔ اگر اس نے تسلسل کے ساتھ اپنی پڑھائی جار رکھی تو ایڈمینش تین ماہ بعد کنفرم کردیا جائے گا۔ بصورت دیگر ایڈمیشن منسوخ ہوسکتا ہے۔

ایڈمیشن کے بعد آپ کو ایک آفیشل ای میل بھیجی جائے گی جس میں آپ کے مینٹر یعنی استاد کا ای میل ایڈریس ہوگا اور کورس کی دیگر تفصیلات ہونگی۔ اسی ای میل میں آپ کو کورس بکس فراہم کردی جائیں گی۔

آپ کورس کا مٹریل ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھائی شروع کرسکتے ہیں۔ کسی بھی دشواری کی صورت میں اپنے مینٹر سے ای میل پر رابطہ کرسکتے ہیں

ہر ہفتےآپ کو اپنی پراگریس رپورٹ سے آگاہ کرنا ہوگا کہ آپ کی پڑھائی کہاں تک پہنچی۔

ہر چیپٹر کے اختتام پر آپ کو اسائنمنٹ جمع کرانے ہونگے ۔
امتحانی نظام
جب آپ کسی ماڈیول کا مطالعہ مکمل کرلیں گے تو آپ اپنے مینٹر سے امتحان دینے کی درخواست کریں گے۔ اس امتحان کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ کچھ مارکس اسائنمنٹ کے، کچھ ایل ایم ایس پر موجود کیس اسٹڈی ایم سی کیوز اور کچھ بیانیہ سوالات ہوسکتے ہیں۔

جو طالب علم پہلے ہی کسی ماڈیول سے متعلق واقفیت رکھتا ہے، وہ اس ماڈیول کو چھوڑ (Exemption) کر اس سے اگلے ماڈیول میں داخلے کی درخواست دے سکتا ہے۔ کسی ماڈیول کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنے کے لئے طالب علم کا تفصیلی انٹرویو کیا جائے گا اور طالب علم کی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس ماڈیول سے Exemption دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جو طالب علم تمام علوم سے دلچسپی نہ رکھتا ہو بلکہ کسی مخصوص میدان ہی میں تعلیم جاری رکھنا چاہے، اس کے لئے یہ سہولت موجود رہے گی کہ وہ کسی ایک یا دو علمی اسٹریمز میں اپنا مطالعہ جاری رکھے۔ تاہم چند کورسز ایسے ہوں گے جنہیں ہر طالب علم کو لازماً کرنا ہو گا۔

اس کورس کے مخاطبین وہ جدید تعلیم یافتہ افراد ہیں جو دینی علوم کے حصول سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مدارس، یونیورسٹیوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے وہ طالب علم اس کورس سے استفادہ کر سکتے ہیں جو علوم اسلامیہ میں اسپیشلائزیشن کر رہے ہیں۔

کورس میں داخلے کے لئے کم از کم تعلیمی استعداد میٹرک یا او لیول ہے۔ طالب علم کے لئے اردو اور انگریزی میں سے کسی ایک زبان پر کم از کم اتنا عبور ہونا ضروری ہے جس سے وہ ان زبانوں کی کتب کا مطالعہ کر سکے اور اپنا ما فی الضمیر بیان کر سکے۔

ہر ماڈیول کی تکمیل کی زیادہ سے زیادہ مدت ایک سال ہوگی۔ کم سے کم مدت کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہر طالب علم اپنی ذہنی صلاحیت اور دستیاب وقت کے مطابق جتنے عرصے میں بھی چاہے، اپنے ماڈیول کو مکمل کر سکتا ہے۔

کورس کی کوئی فیس نہیں ہو گی۔ طالب علموں میں اللہ تعالی کے لیے خرچ کرنے کی عادت کو پختہ کرنے کے لیے اور احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے البتہ یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ کچھ رقم بطور فیس، اپنے قریب ہی کسی ایک شخص کو ادا کر دیں جس کے بارے میں وہ جانتے ہوں کہ وہ واقعتاً ضرورت مند ہے اور پیشہ ور بھکاری نہیں ہے۔

کورس میں داخلے کے لئے نسل، رنگ، جغرافیائی علاقہ اور مذہب کی کوئی شرط نہیں ہے۔ تمام مذاہب، مکاتب فکر، جغرافیے اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد اس کورس میں داخلے کے لئے یکساں اہلیت کے حامل ہیں۔

کورس سے متعلق اسٹڈی میٹریل کے مطالعے اور اسائنمنٹس کی تکمیل کے بعد طالب علم مقررہ مدت میں اپنے وقت کے مطابق امتحان کے لئے رجسٹریشن کروا سکتا ہے۔ امتحان اوپن بک فارمیٹ (Open Book Format) پر مشتمل ہو گا جس کی تفصیلات اسٹڈی میٹریل کے ساتھ ہی فراہم کر دی جائیں گی۔

جو طالب علم پہلے ہی کسی ماڈیول سے متعلق واقفیت رکھتا ہے، وہ اس ماڈیول کو چھوڑ (Exemption) کر اس سے اگلے ماڈیول میں داخلے کی درخواست دے سکتا ہے۔ کسی ماڈیول کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنے کے لئے طالب علم کا تفصیلی انٹرویو کیا جائے گا اور طالب علم کی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس ماڈیول سے Exemption دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جو طالب علم تمام علوم سے دلچسپی نہ رکھتا ہو بلکہ کسی مخصوص میدان ہی میں تعلیم جاری رکھنا چاہے، اس کے لئے یہ سہولت موجود رہے گی کہ وہ کسی ایک یا دو علمی اسٹریمز میں اپنا مطالعہ جاری رکھے۔ تاہم چند کورسز ایسے ہوں گے جنہیں ہر طالب علم کو لازماً کرنا ہو گا۔

New User Registration
*Required field